0
0
0
تحریر: سعید آسی

صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ اللہ تعالٰی نے پاکستان کو وسائل سے مالا مال کیا ہے، اسے بہترین نہری نظام ملا مگر قیام پاکستان کے بعد منگلا اور تربیلا سمیت چند ہی ڈیم بنائے گئے جبکہ وقت کے ساتھ پانی کے استعمال میں اضافہ اور ذخائر میں کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو محفوظ اور ذخیرہ کرنا بنیادی مسئلہ ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے زیراہتمام پانی کے مسئلہ پر منعقد قومی آبی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پانی کے حساس مسئلہ کو اجاگر کیا تھا۔ انکے بقول پاکستان میں 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اس لئے ہمیں فوری طور پر بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے پانی کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ اس کیلئے ضرورت ہے کہ کم خرچ توانائی کے ذرائع کو بروئے کار لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سورج اور ہوا کے ذریعے توانائی کے حصول پر بھی کام ہونا چاہیے۔ تھرپارکر میں بچے پانی کی کمی کے باعث موت کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ قومی آبی پالیسی موجود ہے، اس پر موثرعملدرآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھی مذاکرات ضروری ہیں جبکہ آبی قلت پر قابو پانے کیلئے شجرکاری بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ماہ 16 اکتوبر تک 6 ارب روپے سے زائد رقم ڈیم فنڈ میں جمع ہو چکی ہے۔

قبل ازیں چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے سمپوزیم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے مسئلہ پر گزشتہ چالیس سال سے مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے۔ پانی ہماری زندگی ہے اور ہماری بقاء کیلئے ضروری ہے جبکہ پاکستان اس وقت شدید آبی بحران سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت دور کرنے کیلئے وسائل پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ زرعی ملک کے طور پر پاکستان کیلئے پانی کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے جبکہ یہاں آبی ذخائر تیزی کے ساتھ ختم ہوتے جارہے ہیں۔ اگر اقدامات نہ کئے گئے تو ہمیں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ انکے بقول انسان خوراک کے بغیر تو زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مستقبل میں پاکستان شدید آبی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آبی ذخائر میں اضافے کیلئے عدلیہ بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم آبی قلت پر قابو پالیں جس کیلئے ماضی کی کوتاہیاں دور کرنا ہوںگی۔ ہمیں پانی کے استعمال میں بھی بھرپور احتیاط اور کفایت شعاری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

آج پانی کی قلت ہی بلاشبہ ہمارے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ہمارا پانی روکنے کی بھارتی سازشوں کے علاوہ ہم نے خود بھی اپنے ساتھ دشمنی کی ہے اور زیرزمین تیزی کے ساتھ نیچے جاتے ہوئے پانی کو محفوظ کرنے کی کبھی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کی ہی نہیں۔ بے شک پانی قدرت کے ودیعت کردہ وسائل میں سے ایک بڑی نعمت ہے جو اس کرۂ ارض پر ہر ذی روح کی بقاء کیلئے ضروری ہے مگر ہم نے اس نعمت کی بے قدری کرتے ہوئے اسے بری طرح ضائع کیا‘ نتیجتاً زیرزمین پانی کی سطح بتدریج نیچے ہوتی چلی گئی۔ چنانچہ دو دہائیاں قبل تک جو پانی ہمیں زیرزمین 80 سے 100 فٹ تک آسانی سے دستیاب تھا وہ اب 800 فٹ تک نیچے جا چکا ہے اور اسکے نیچے جانے کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آبی ماہرین کی سروے رپورٹوں کے مطابق پانی کے زیرزمین نیچے جانے کی یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ دہائی تک ہمیں پینے کیلئے بھی پانی دستیاب نہیں ہوگا اور ہمارے لئے اناج اور دوسری فصلیں اگاتی یہ زرخیز دھرتی بنجر ہو کر بے آب و گیاہ ریگستان میں تبدیل ہوجائیگی۔ واپڈا کے سابق چیئرمین ظفرمحمود نے تو اپنے آبی انجینئروں کے ذریعے کرائے گئے سروے کی روشنی میں بلوچستان کیلئے تین سال قبل خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی اور یہ چشم کشا عندیہ دیا تھا کہ آئندہ 5 سال تک بلوچستان کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے جبکہ اسکے کچھ عرصہ بعد ایسی ہی صورتحال پنجاب بالخصوص لاہور کیلئے پیدا ہو جائیگی۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی آبی قلت کے اس خطرے کی بنیاد پر ہی کالاباغ ڈیم کی وکالت کی ٹھانی۔ اس سلسلہ میں قومی اخبارات میں سلسلہ وار مضامین لکھنے کا آغاز کیا جس کی پاداش میں انہیں سابقہ دور حکومت میں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی حکومت کو دی گئی دھمکی پر اپنے منصب سے الگ ہو کر گھر جانا پڑا۔

بھارت تو بہرصورت ہمارا وہ ازلی مکار دشمن ہے جو ہماری سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا چنانچہ اسکے سازشی ذہن نے تقسیم ہند اور تشکیل پاکستان کے وقت ہی اسے پانی سے محروم کر کے کمزور کرنے کی ٹھان لی تھی۔ اسی مقصد اور نیت کے تحت اس نے کشمیر پر اپنا تسلط جمایا تاکہ وہ کشمیر سے آنیوالے دریائوں کا پانی روک کر اسکی زرخیز دھرتی کو اجاڑ سکے۔ اس نے اسی بدنیتی کے تحت پاکستان کے ساتھ کشمیر کے علاوہ پانی کا تنازعہ بھی کھڑا کیا جس کے حل کیلئے پاکستان کو مجبوراً عالمی بنک کے پاس جانا پڑا تو اس نے 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدہ کرا کے اس میں بھارت کے حق میں ڈنڈی ماری اور 3 دریا مکمل طور پر بھارت کے حوالے کر دیئے جن کے پانی کے استعمال سے پاکستان کو روک دیا گیا جبکہ باقی ماندہ 3 دریاؤں جہلم، نیلم اور سندھ پر پاکستان کو ڈیم تعمیر کرنے کا پہلا حق دے کر اسکے بعد بھارت کو بھی حق دے دیا گیا۔ ہمارا المیہ یہ ہوا کہ بھارت نے ترغیبات دے کر ہمارے آبی ماہرین کو بھی خرید لیا جو پاکستان کیلئے ڈیمز کی تعمیر کے معاملہ میں خواب خرگوش ہو گئے چنانچہ ہم سندھ طاس معاہدے میں ملنے والے اپنے معمولی سے حق سے بھی استفادہ نہ کر سکے اور یہاں منگلا اور تربیلا کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہ بن سکا۔

کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے پیپر ورک کا ایوب خان کے دور میں آغاز ہو چکا تھا جس پر بھٹو مرحوم کے دور میں کام کا آغاز ہوا تو بھارت نے اپنے ایجنٹ بعض پاکستانی سیاست دانوں کو قوم پرستی اور علاقہ پرستی کی آڑ میں اس ڈیم کیخلاف کمربستہ کر دیا جنہوں نے اسے ڈائنامائیٹ مار کر اڑانے اور اپنی لاشوں پر سے گزر کر اس ڈیم کی تعمیر ہونے دینے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں نتیجتاً یہ ڈیم اتنا متنازعہ بنادیا گیا کہ آج تک اسکی تعمیر کی نوبت نہیں آسکی۔ حالانکہ اس کیلئے جتنا کام ہو چکا تھا اسکے بعد چند سال میں ہی اسکی تعمیر مکمل ہو سکتی تھی۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کالاباغ ڈیم کے مخالفین درحقیقت پاکستان کے مخالفین ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنے کی بھارتی سازشوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یکا و تنہاء حکمرانی کرنیوالے جرنیلی آمر ضیاء الحق اور مشرف بھی اعلانات کرنے کے باوجود اس ڈیم کی تعمیر کے کسی قسم کی پیش رفت نہ کرسکے۔ اس طرح بھارت ہم پر آبی دہشت گردی کی اپنی منصوبہ بندی میں کامیاب ہو گیا جبکہ اس نے ہمارے حصے کے دریائوں پر بھی دھڑا دھڑ ڈیمز تعمیر کرلئے اور پھر ان دریائوں کا رخ بھی پاکستان کی جانب سے موڑنے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔ یہی وہ صورتحال ہے جس نے جنونی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو یہ بڑ مارنے کا موقع فراہم کیا کہ ہم پاکستان کو پانی کی ایک ایک بوند سے محروم کر دینگے۔ انہیں یہ بڑ مارنے کی ہمت پاکستان کا کھا کر اس کو گھورنے والے موقع پرست سیاست دانوں کی آشیرباد سے ہی حاصل ہوئی ہے جو کالاباغ ڈیم ہی نہیں، اسکی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے دوسرے ڈیمز کی تعمیر کی مخالفت پر بھی کمربستہ نظر آرہے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے پانی کی قلت کے گھمبیر ہوتے اس مسئلہ کا ادراک کرکے ہی ڈیمز کی عدم تعمیر کے معاملہ کا ازخود نوٹس لیا اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا بیڑہ اٹھایا مگر بھارتی شردھالو سیاست دانوں نے بھارتی ایجنڈا کے عین مطابق پھر آسمان سر پر اٹھا لیا اور اس کیلئے قومی اتفاق رائے والی شتونگڑی چھوڑنا شروع کر دی چنانچہ فاضل چیف جسٹس بھی کالاباغ ڈیم کی حمایت سے دست کش ہونے پر مجبور ہوگئے مگر انہوں نے ڈیمز کی ہر صورت تعمیر کا عزم باندھ لیا اور دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے سپریم کورٹ میں باضابطہ طور پر فنڈ قائم کر دیا۔

25 جولائی کے انتخابی مینڈیٹ کے تحت عمران خان برسر اقتدار آئے تو انہوں نے بھی بطور وزیراعظم متذکرہ دونوں ڈیمز کی تعمیر کیلئے چیف جسٹس کے کاز کو آگے بڑھایا اور اس کیلئے وزیراعظم فنڈ کو سپریم کورٹ کے فنڈ میں ضم کردیا۔ صدر مملکت عارف علوی کے بقول اس فنڈ میں اب تک چھ ارب روپے سے زائد کی رقم جمع ہو چکی ہے مگر یہ رقم متذکرہ ڈیمز کے مجموعی اخراجات کا عشرعشیر بھی نہیں۔ تاہم فاضل چیف جسٹس نے جس عزم کے ساتھ ان ڈیمز کی تعمیر کا بیڑہ اٹھایا ہے وہ اس میں کمی نہیں ہونے دینا چاہتے اور اس کیلئے قوم کو متحرک رکھنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے پلیٹ فارم پر قومی آبی کانفرنس کا انعقاد بھی اسی تناظر میں کیا گیا ہے ورنہ سپریم کورٹ کے فورم پر ایسی کانفرنسوں کے انعقاد کی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ اگر گزشتہ ماہ 18 ستمبر کو قومی اسمبلی میں نئے ڈیمز کی تعمیر کیلئے پی ٹی آئی حکومت کے ایماء پر قرارداد منظور کی گئی تو اس کیلئے بھی چیف جسٹس سپریم کورٹ کے جذبے سے ہی راہ ہموار ہوئی۔ یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور دوسرے حکومتی اکابرین کو بھی پانی کی قلت کے گھمبیر مسئلہ کا ادراک ہوچکا ہے اور اب خود صدر مملکت بھی اس مسئلہ کو اجاگر کر کے سندھ طاس معاہدے پر بھارت سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں تو حکومت کو خود بھی فنڈز سے ہٹ کر ڈیمز کی تعمیر میں حصہ ڈالنا چاہیئے۔ بہتر یہی ہے کہ کالاباغ ڈیم پر ہونیوالی سیاست کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حکومت اس ڈیم کی تعمیر کیلئے بھی پیش رفت کرے اور اپنے بہترین وکلاء اور مستند آبی ماہرین کی ٹیم بنا کر عالمی بنک میں بھارت کیخلاف اپنا پانی کا کیس پیش کرے۔ ہمیں اپنی بقاء کیلئے بہرصورت اپنے آبی ذخائر بڑھانے اور محفوظ بنانے ہیں ورنہ فی الواقع ’’ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔‘‘

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس