0
0
0
تحریر: سعید آسی

مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارتی افواج کا نہتے کشمیری عوام پر وحشت و بربریت کا تسلسل برقرار ہے اور جمعرات کو بھی بھارتی فوج نے ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا۔ 2 روز قبل بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونیوالے 3 کشمیری نوجوانوں کی میتیں جمعرات کے روز سپرد خاک کی گئیں۔ اس موقع پر کشمیری عوام بشمول وکلاء نے مودی سرکار کیخلاف زبردست مظاہرے کئے جبکہ حریت قیادت کی اپیل پر پوری مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال رہی اور کشمیری عوام کے مظاہروں کے باعث کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ مظاہروں کے باعث ٹرین سروس بھی معطل رہی۔ ان مظاہروں کے دوران پلوامہ میں بھارتی فوج نے مظاہرین پر بے دریغ فائر کھول دیئے جس سے ایک نوجوان شوکت احمد بٹ شہید ہو گیا۔ گزشتہ روز سری نگر شہر کے چپے چپے پر بھارتی سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ اسکے باوجود کشمیری عوام سڑکوں پر نکل آئے اور کئی مقامات پر بھارتی سکیورٹی فورسز کا محاصرہ کرلیا۔ سری نگر میں اس وقت غیراعلانیہ کرفیو نافذ ہے پھر بھی حریت قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک کی کال پر کشمیری عوام نے بھارتی مظالم کیخلاف مظاہروں کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے اور اب کشمیری وکلاء بھی ان مظاہروں میں شامل ہو گئے ہیں۔ مظاہرین کی بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔ حریت قیادت کی ہڑتال کی کال کے باعث مقبوضہ وادی کے شمال اور جنوب میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ مقبوضہ وادی کے تمام دس اضلاع میں کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز مکمل بند ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت نے بھارتی فورسز کو کشمیر میں عام شہریوں کی جانیں ضائع کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ انکے بقول آج مقبوضہ وادی میں ہر جانب جبر کا دور ہے۔

یہ امر واقع ہے کہ بھارت کی مودی سرکار کشمیری نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر فعالیت اور انکی جانب سے اقوام عالم میں بھارتی فوجوں کے مظالم بے نقاب کرنے سے عاجز آکر انہیں بزور کچلنے کی ٹھانے بیٹھی ہے۔ اس مقصد کیلئے ہی مقبوضہ کشمیر میں محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت کو ختم کر کے گورنر راج نافذ کیا گیا اور پورا میڈیا اپنے کنٹرول میں لیا گیا۔ مقبوضہ وادی میں جدید اور مہلک ہتھیاروں کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم کا تسلسل تو گزشتہ چار سال سے برقرار ہے جس کے دوران نوجوان کشمیری لیڈر برہان وانی سمیت سینکڑوں کشمیری عوام شہید اور اسرائیلی ساختہ پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے ہزاروں نوجوان مستقل اندھے اور اپاہج ہو چکے ہیں تاہم مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھارتی فورسز نے مودی سرکار کے ایجنڈے کے عین مطابق وہاں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے جن کے استعمال کی باقاعدہ جنگ میں بھی اجازت نہیں ہوتی مگر مودی سرکار اپنی جنونیت میں اندھی ہو کر اور کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے کی نیت سے کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے پر تلی بیٹھی ہے تاکہ وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی تحریک چلاسکیں نہ سوشل میڈیا پر بھارتی مظالم بے نقاب کرتے رہنے کی پوزیشن میں آسکیں۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری ہے نہ ہی اس نے دوطرفہ مذاکرات کیلئے شملہ معاہدے کو کبھی پرکاہ کی حیثیت دی ہے۔ اس کا ایجنڈا کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کو جیسے تیسے عملی قالب میں ڈھالنے کا ہے جس کیلئے اسے مسلمہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی بھی پاسداری نہیں اور اسکی فوجیں وحشت و بربریت کی انتہاء کرتے ہوئے کشمیری عوام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ کشمیریوں کی جدوجہد کا ساتھ دینے اور علاقائی اور عالمی فورموں پر انکے کاز کیلئے آواز اٹھانے پر بھارت پاکستان کی سالمیت کے بھی درپے ہے جس پر بھارت کی سول اور فوجی قیادتوں کی جانب سے آئے روز سرجیکل سٹرائیکس اور باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی گیدڑ بھبکیاں لگائی جا رہی ہیں۔

اسی بنیاد پر مودی سرکار کی جانب سے سرحدوں پر کشیدگی مسلسل بڑھائی گئی ہے اور حیلے بہانے سے پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں ہی بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور اسکے ایک قدم آگے بڑھانے کی صورت میں پاکستان کی جانب سے دو قدم بڑھانے کا اظہار کیا اور مودی کے تہنیتی پیغام کے جواب میں بھی پاکستان بھارت تنازعات کے حل کیلئے دو طرفہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جو درحقیقت پاکستان کے اس اصولی مؤقف ہی کا اعادہ تھا جو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات کے حل کیلئے سابقہ حکومتوں کی جانب سے بھی اختیار کیا جاتا رہا مگر بھارت اپنے خبث باطن کے باعث پاکستان کے ساتھ حل طلب تنازعات طے کرنے کی راہ پر نہیں آتا۔ اس حوالے سے نہ اسے ثالثی کے کردار کی عالمی قیادتوں کی کسی پیشکش کی پاسداری ہے نہ وہ دوطرفہ مذاکرات پر آمادہ ہے چنانچہ مودی سرکار نے پاکستان کی جانب سے گزشتہ ماہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ کی باضابطہ ملاقات کی پیشکش قبول کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد ٹھکرا دی اور اسی بنیاد پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے ہم منصب وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی کے ساتھ سرد مہری والا رویہ اختیار کیا اور اسکے بعد مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جنگ کی فضا بنادی گئی جس پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادتوں کو بھی جنونی بھارت کو مسکت جواب دینا پڑا۔ اب مودی سرکار کشمیریوں کے درپے ہے اور وحشیانہ مظالم کے ذریعے انکے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ چنانچہ بھارتی فوجوں کے مظالم سے گزشتہ 2 ہفتے کے دوران دو درجن کے قریب کشمیری نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔ ظلم و جبر کے ایسے ہتھکنڈوں کا مقصد حق خودارادیت کیلئے توانا ہونیوالی کشمیریوں کی آواز ہمیشہ کیلئے دبانا اور ان پر بھارتی فوجوں کے مظالم اقوام عالم کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا ہے تاہم دنیا بھر میں پھیلے متحرک کشمیریوں نے اب تک بھارت کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی چنانچہ آج مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ گزشتہ روز صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بھی اقوام عالم کو اسی تناظر میں متوجہ کیا ہے کہ معاشی، سیاسی اور دفاعی اعتبار سے مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی بھارتی غلامی سے آزادی کا ضامن ہو سکتا ہے جبکہ کشمیری عوام نے ایک دن بھی خود کو بھارتی شہری تصور نہیں کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے اقوام عالم سے پاکستان کی مضبوطی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی جرائم کی بیخ کنی کیلئے کردار ادا کرنے کا تقاضا کیا ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر کی کابینہ نے بھی گزشتہ روز اپنے اجلاس میں بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی ہے اور اپنی ایک قرارداد کے ذریعے باور کرایا ہے کہ بانڈی پورہ میں بھارتی فورسز کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

کشمیری عوام نے تو کٹھ پتلی اسمبلی کے انتخابات کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی نگرانی میں کرائے گئے بلدیاتی انتخابات کو بھی مسترد کرکے اور ان انتخابات کا بائیکاٹ کر کے دنیا کو بھارتی تسلط قبول نہ کرنے کا ٹھوس پیغام دے دیا ہے جبکہ بھارتی جنونی عزائم و اقدامات کا ہماری جانب سے بھی منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔ اگر بھارت کشمیری عوام کو کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے مکمل کچلنے اور پاکستان کی سالمیت پر اوچھا وار کرنے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے جس کا اسکی جنگی تیاریوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے تو عساکر پاکستان بھی دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کیلئے مکمل تیار ہیں اور قوم بھی عساکر پاکستان کے ساتھ یکجہت ہے۔ کوئی یہاں چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھا ہوا اور نہ ہی ملک کی سالمیت کیخلاف جارحیت کا سوچنے والوں کا ہار پہنا کر استقبال کیا جائیگا۔ اس تناظر میں مودی سرکار کو آگاہ ہونا چاہیئے کہ اسے ہماری جانب سے ’’ایسے کو تیسا‘‘ والا جواب ہی ملے گا۔ اگر بھارت پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصولوں کا بھی قائل نہیں اور اس نے علاقائی اور عالمی امن تہہ و بالا کرنے کی ہی ٹھانی ہوئی ہے تو اقوام عالم اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر بھارتی جنونی ہاتھ بہرصورت روکنا ہونگے۔ بصورت دیگر بھارتی توسیع پسندانہ عزائم علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو بھی غارت کرکے چھوڑیں گے۔ پاکستان کو بہرصورت اپنے دفاع و تحفظ کیلئے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت کوئی بھی قدم اٹھانے کا حق حاصل ہے جس کا نتائج سے عالمی قیادتوں کو اس لئے بھی آگاہ ہونا چاہیئے کہ بھارتی جنونیت کے آگے بند نہ باندھنے کے باعث ہی اسکی نوبت آئیگی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس