0
0
0
تحریر: سعید آسی

وزیراعظم پاکستان عمران خان سے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وفد کی ملاقات کے موقع پر گزشتہ روز وزیراعظم کو اخباری صنعت اور الیکٹرانک میڈیا کے مسائل سے مفصل آگاہ کیا گیا اور قومی میڈیا کی بقاء کی خاطر یہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ملاقات کے وقت وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین‘ معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی‘ سینیٹر فیصل جاوید اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل بھی موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ سابقہ حکومتوں نے جس انداز میں سرکاری وسائل اور عوام کے پیسوں کا استعمال کیا اور ملک کو دلدل میں دھکیلا اسکی مثال نہیں ملتی۔ آج ملک 30 ٹریلین کا مقروض ہو چکا ہے اور قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کیلئے ہمیں 6 ارب روپے روزانہ کی بنیاد پر ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے کفایت شعاری کی مہم شروع کی ہے جس کا آغاز میں نے اپنے دفتر سے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں قوم کا ایک پیسہ بھی خرچ کرتا ہوں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ ماضی میں کروڑوں روپے حکمرانوں کی عیاشیوں اور شاہانہ اخراجات پر خرچ کئے گئے۔ انہوں نے کہا، ان حالات کے تناظر میں ہم ایسا حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے عوام کو کم سے کم تکالیف کا سامنا کرنا پڑے۔
وزیراعظم نے میڈیا کو یقین دلایا کہ موجودہ دور حکومت میں اسے اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی میسر ہو گی اور میڈیا کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائیگی۔ انکے بقول آج میڈیا کو جتنی آزادی حاصل ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بقایاجات کی ادائیگیوں کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر نیوز پرنٹ پر عائد پانچ فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے۔ ہم میڈیا کی مثبت تنقید کا خیرمقدم کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اقتصادی مسائل کے سبب میڈیا کو بھی مسائل کا سامنا ہے تاہم ان مسائل پر جلد قابو پالیا جائیگا۔ دوران ملاقات میڈیا انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور دوسرے مخالف امور پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑیگی کیونکہ ملک کو درپیش اقتصادی مسائل کے حل کیلئے کچھ دوست ملکوں سے بات چیت چل رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کے سخت فیصلوں سے چھ ماہ میں تبدیلی نظر آئیگی۔ ہم میڈیا کو سپورٹ کرینگے اور توقع ہے کہ بہت جلد ملک اور میڈیا کو درپیش مسائل پر قابو پالیں گے۔ دوسری جانب اے پی این ایس نے نیوز پرنٹ پر ڈیوٹی ختم کرنے پر وزیراعظم عمران خان سے اظہار تشکر کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکرٹری سرمد علی نے اپنے بیان میں ملاقات کی درخواست قبول کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور وزارت اطلاعات کو بقایاجات کی ادائیگی سے متعلق ہدایات دینے پر بھی وزیراعظم کے ساتھ اظہار تشکر کیا۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عمران خان نے 22 سال قبل سیاست کی پرخاروادی میں قدم رکھتے ہی کرپشن فری سوسائٹی اور میرٹ و انصاف کی عملداری کا ایک واضح تصور اپنے دل میں سمولیا تھا چنانچہ انہوں نے اسی تصور کو حرزِجاں بنا کر خود سے عہد کرلیا کہ وہ اقتدار میں آکر کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل کو یقینی بنائیں گے‘ پسے پسماندہ مفلوک الحال عوام کو اشرافیہ طبقات کے مسلط کئے گئے استحصالی نظام کے شکنجے سے نجات دلائیں گے‘ انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے بے وسیلہ عام آدمی کی بھی انصاف تک رسائی ممکن بنائیں گے اور ادارہ جاتی خامیوں اور اقرباء پروری کی روش کو دور کرکے میرٹ کی عملداری کرینگے۔ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا مطمحٔ نظر ’’سٹیٹس کو‘‘ والے فرسودہ نظام سے عوام کو نجات دلانا تھا چنانچہ انہوں نے اپنی پارٹی کا نام بھی اسی تناظر میں تحریک انصاف رکھا اور ’’سٹیٹس کو‘‘ توڑنے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ بے شک انہیں اس جدوجہد میں منزل تک پہنچنے کیلئے طویل عرصہ لگا ہے‘ تاہم انہوں نے 25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں اپنے ایجنڈے اور منشور کی بنیاد پر ہی کامیابی حاصل کی ہے جس کے نتیجہ میں وفاق اور تین صوبوں میں انکی پارٹی اور اسکے اتحادیوں کی حکومتیں قائم ہوئیں، اب انکی اولین ترجیح کرپشن فری سوسائٹی سے متعلق اپنے ایجنڈے کو حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنانے کی ہے جس کیلئے وہ احتساب کا عمل اپنی ذات سے شروع کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور خود کو مثال بنا کر کرپشن فری سوسائٹی کیلئے پیش رفت کررہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان جس جذبے اور لگن کے ساتھ سسٹم کی اصلاح اور کرپشن و اقرباء پروریوں سے پاک نئے پاکستان کی تشکیل کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں اور مشکل فیصلے کررہے ہیں جس میں انہیں لامحالہ عوام کے غم و غصے کا بھی سامنا ہے، اسکے ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کی صورت میں یقیناً مثبت اور حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہونگے۔ اگر وزیراعظم عمران خان لوٹے گئے قومی سرمایہ کی قومی خزانہ میں واپسی سے متعلق اپنے ایجنڈے کو جلد عملی جامہ پہنا کر ملک کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات دلا دیتے ہیں اور نئے قرضوں کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلہ سے رجوع کرلیا جاتا ہے تو یہ بلاشبہ پی ٹی آئی حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہو گی جس سے عوام کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا مہنگائی کا سونامی بھی ٹل جائیگا اور قومی معیشت کی سمت بھی درست ہو جائیگی۔ قومی میڈیا اسی تناظر میں ملک اور عوام کی قسمت بدلنے سے متعلق وزیراعظم کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہے اور انکی قومی پالیسیوں کا ساتھ دے رہا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کی عملداری، آئین و انصاف کی حکمرانی، بنیادی شہری حقوق کے تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے آواز بلند کی ہے اور بانیان پاکستان اقبال و قائد کی امنگوں کے مطابق جدید اسلامی، جمہوری، فلاحی معاشرے کی تشکیل کیلئے اقتدار کے ایوانوں کے اندر اور باہر کی جانیوالی کاوشوں کا ساتھ دیا ہے جبکہ قومی میڈیا نے ملکی وقار اور خودمختاری پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ بے شک میڈیا کو بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران متعدد کٹھنائیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جمہوری اقدار کا گلا گھونٹ کر اپنے دائمی اقتدار کی خواہش رکھنے والے حکمرانوں نے اپنی من مانیوں کی خاطر میڈیا کا گلا دبانے کی بھی کوشش کی اور اسے اشتہاروں کی بندش، کاغذ کے کوٹے میں کمی، نیوز پرنٹ پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافہ سمیت متعدد آمرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے زیربار رکھنے کے اقدامات اٹھائے مگر قومی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے آزادیٔ صحافت اور اظہار رائے کی آزادی پر کبھی حرف نہیں آنے دیا۔ اس تناظر میں بالخصوص موجودہ دہائی کا آغاز میڈیا کی بقاء کے حوالے سے انتہائی کٹھن ثابت ہوا ہے کیونکہ سابقہ حکمرانوں کی جانب سے اشتہارات کی مد میں میڈیا کو واجبات کی ادائیگی روک کر اسے مفلوج بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ بالخصوص پرنٹ میڈیا کیلئے سوشل میڈیا کی فعالیت نے سرکولیشن کے مسائل بھی کھڑے کردیئے، نتیجتاً پرنٹ میڈیا کی آمدنی کا اصل بڑا ذریعہ بہت تیزی سے محدود ہونے لگا تو اسکے پاس خود کو اپنے پائوں پر کھڑا رکھنے کیلئے سرکاری اشتہاروں پر تکیہ کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہا۔ جب سابقہ حکمرانوں کی جانب سے اشتہاروں کی فراہمی میں بھی ڈنڈی ماری جانے لگی اور انکے واجبات بھی روک لئے گئے تو قومی میڈیا کو بے پناہ اقتصادی مسائل نے گھیرلیا اور اس کیلئے اپنے کارکنوں کو بروقت تنخواہیں ادا کرنا بھی مشکل ہوگیا۔ نتیجتاً میڈیا انڈسٹری ایک نئے بحران اور کٹھن حالات سے دوچار ہوگئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ نیوز پرنٹ پر ٹیکس میں اضافہ کرکے میڈیا پر مزید اقتصادی بوجھ لاد دیا گیا چنانچہ ان حالات میں قومی میڈیا کیلئے اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔
یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور انکی حکومت کو جہاں قومی میڈیا کی آزادی اور خودمختاری عزیز ہے وہیں انہیں میڈیا کو درپیش مسائل کا بھی مکمل ادراک ہے چنانچہ میڈیا کے خیرخواہ کی حیثیت سے انہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی نمائندہ تنظیموں کے وفد سے ملاقات کے دوران جہاں میڈیا کے واجبات کی ادائیگی کیلئے لائحہ عمل طے کرنے کا اعلان کیا اور اس کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ ظاہر کیا وہیں انہوں نے نیوز پرنٹ پر عائد پانچ فیصد ڈیوٹی بھی ختم کرنے کی نوید سنائی۔ ان کا یہ اعلان دم توڑتے قومی میڈیا کو یقیناً نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔ بصورت دیگر اس کیلئے زندہ رہنا عملاً ناممکن ہو گیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان جس عزم کے ساتھ اس ارض وطن کو برس ہابرس کے استحصالی نظام کے شکنجے سے نجات دلا کر اسکی معیشت میں خودانحصاری کی بنیاد مستحکم کرنے کی کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں اور قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار کی لت میں مبتلا حکمران اشرافیہ طبقات کی گرفت کررہے ہیں، اسکے تناظر میں اس ملک خداداد کو تمام مسائل و مشکلات سے نکال کر ریاست مدینہ سے ہمکنار کرنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ یہ بلاشبہ وزیراعظم عمران خان اور انکی حکومت کی بڑی کامیابی ہو گی۔ اس قومی کاز میں قومی میڈیا انکے ہمقدم ہے اور تعمیر ملک و ملت کیلئے انکی آواز ملک کے چپے چپے تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ میڈیا انڈسٹری کو اقتصادی مشکلات سے نجات دلانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانا بھی وزیراعظم کا بڑا کارنامہ ہے جس پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی تمام نمائندہ تنظیمیں انکی مشکور ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس