0
0
0
تحریر: سعید آسی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابقہ ادوار کے جمع شدہ میڈیا کے بقایاجات کی ادائیگیوں کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے۔ جمہوریت کے فروغ، گڈ گورننس، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے اور عوام کو آگاہی فراہم کرنے میں میڈیا کا کلیدی کردار ہے، حکومت کی جانب سے میڈیا کو مکمل سپورٹ کیا جائیگا۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے وفد سے ملاقات کے دوران میڈیا انڈسٹری کو درپیش مسائل اور اہم ملکی و قومی امور پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی مداخلت نہیں کی گئی، ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں، آج مشکل وقت ہے جو انشاء اللہ گزر جائیگا۔ انکے بقول یہ ملک تیزی سے اوپر اٹھے گا۔ اے پی این ایس کے وفد سے ملاقات کے موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین، معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی، سینیٹر فیصل جاوید اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ وفد نے عمران خان کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور انہیں اخباری صنعت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اخباری صنعت کی مشکلات حل کرنے کیلئے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا نظریہ عوام تک پہنچانے اور اسے کامیاب کرانے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انکے بقول میڈیا نہ ہوتا تو وہ آج یہاں نہ ہوتے، ہم میڈیا کو مکمل سپورٹ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی موجودہ صورتحال کا ادراک کرنا ہو گا، حکومت اشتہارات کے ذریعے کسی قسم کی بلیک میلنگ پر یقین نہیں رکھتی، آپ ہمیں تجاویز دیں کہ اشتہارات کی تقسیم کار کیسے ہو اور اس میں کیسے مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر قومی سیاست میں آنے سے اقتدار کی منزل کے حصول تک قومی میڈیا کی مکمل سپورٹ حاصل رہی ہے۔ انہوں نے سسٹم کی اصلاح، کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل، تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لگایا اور اس کیلئے قومی سیاست میں کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا تو اس عظیم مقصد میں انکے خلوصِ نیت کو بھانپ کر ہی میڈیا نے انکے کاز کو پروان چڑھانے اور آگے بڑھانے کیلئے انکی آواز کے ساتھ آواز ملائی۔ اگر میڈیا کی جانب سے انکی پارٹی پالیسیوں اور ایجنڈے کے بعض معاملات پر تنقید کی گئی تو اس کا مقصد بھی تعمیر وطن کیلئے ان کے کاز کو تقویت پہنچانے کا ہی تھا۔ قومی میڈیا نے ایک ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے ملک میں جمہوریت کی عملداری، آئین و قانون کی حکمرانی، انصاف کی بلاامتیاز فراہمی اور جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا کو اپنے اس کردار کی ادائیگی کیلئے بالخصوص آمرانہ ادوار اقتدار میں کٹھنائیوں، قدغنوں، اشتہارات کی بندش اور سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑا مگر میڈیا نے بانیٔ پاکستان قائداعظمؒ کے ودیعت کردہ اس ملک خداداد میں کسی جرنیلی اور سول آمریت کے جبری ہتھکنڈوں کے آگے آزادیٔ صحافت کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ قید، کوڑوں، لاٹھی گولی سمیت مختلف سزائیں اور صعوبتیں بھی برداشت کیں مگر اظہار رائے کی آزادی پر کبھی مفاہمت نہیں کی اور اس پیشۂ پیغمبری کا تقدس و وقار کبھی مجروح نہیں ہونے دیا۔
آج اس حقیقت کا انتہائی کرب کے ساتھ اظہار کیا جارہا ہے کہ بعض کاروباری طبقات نے جائز ناجائز طریقے سے سمیٹے ہوئے اپنے دھن دولت کے زور پر پروفیشنلزم کی بنیاد پر استوار میڈیا انڈسٹری کو اپنے کالے دھن کے تحفظ کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا لیا اور اپنے اصل کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنے میڈیا گروپس بھی قائم کر لئے جن کے ماتحت انہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کو بلیک میل کر کے ان سے مفادات سمیٹنا اور اپنے کالے دھن پر جوابدہی سے خود کو مبرا سمجھنا شروع کر دیا۔ اسی صورتحال میں میڈیا کے مقدس پیشہ میں مشروم گروتھ درآئی اور اس سے پروفیشنلزم کا دامن تھامے ہوئے میڈیا گروپس کی حق تلفی ہونا شروع ہوئی جبکہ سابقہ حکومتوں کو بھی اسی صورتحال میں میڈیا کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے اور اس سے انکاری میڈیا گروپس کو اشتہارات اور کاغذ کے کوٹہ میں کٹوتی اور انکے واجبات کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر سزا دینے کا موقع ملنے لگا۔ چونکہ دوسرا منفعت بخش کاروبار کرنیوالے میڈیا گروپس کے پاس کالے دھن کی صورت میں بے پناہ مالی وسائل دستیاب ہوتے ہیں اس لئے انہیں کسی مالی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جبکہ وہ کالے دھن کے بل بوتے پر ہی متعلقہ حکومتی ریاستی اداروں میں بھی اپنا اثرورسوخ قائم کرکے مفادات سمیٹتے رہے ہیں اس لئے آزادیٔ صحافت ان کا کوئی مسئلہ ہے نہ اسکے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا ان میں جذبہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں میڈیا کا موجودہ دور پروفیشنلزم کا دامن تھامنے والے میڈیا گروپ کیلئے کڑی آزمائش کا دور ہے جس سے گزرتے ہوئے انہیں اتنے زیادہ مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا کہ ان کا خود کو زندہ رکھنا بھی مشکل ہو گیا، تاہم پروفیشنلزم کی بنیادوں پر کھڑے میڈیا گروپس نے صبرو ہمت کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور اخباری مالکان، ایڈیٹروں اور کارکنوں کی نمائندہ تنظیموں کی معاونت و مشاورت سے تمام کٹھنائیوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے مشن میں سرخرو ہوتے رہے ہیں۔

قومی میڈیا بلاشبہ آج بھی جمہوری اقدار و روایات کے فروغ، ملک میں آئین و انصاف کی حکمرانی اور راندۂ درگاہ عوام کے حقوق کے تحفظ سمیت قائداعظم کے پاکستان کی انکی امنگوں اور آدرشوں کے مطابق تعمیر و استحکام کیلئے بلاخوف و رغبت اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا اس ارض وطن کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کا ایجنڈا بھی درحقیقت قائد کے پاکستان کے احیاء کا ایجنڈا ہے جسے عملی جامہ پہنا کر اس ملک خداداد کو امن و آشتی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے اور عوام کے مقدر میں لکھے اندھیروں سے انہیں نکال کر خوش بختی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے اس لئے قومی میڈیا انکے اس ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ان کا مکمل اور بے لوث ساتھ دینے پر ہمہ وقت آمادہ و تیار ہے۔ اس تناظر میں اے پی این ایس کے وفد نے انہیں میڈیا کو درپیش جن مسائل سے آگاہ کیا ہے انہیں حل کئے بغیر میڈیا کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک وزیراعظم نے بھی میڈیا سے متعلق مسائل پوری توجہ سے سنے اور انہیں حل کرنے کیلئے سابقہ ادوار حکومت کے جمع شدہ میڈیا کے بقایاجات کی ادائیگی سمیت تمام اقدامات بروئے کار لانے کا لائحہ عمل طے کرنے کا یقین دلایا ہے جس کیلئے انہوں نے میڈیا گروپس کی اس نمائندہ تنظیم سے مشورے بھی طلب کئے ہیں جو قومی میڈیا کے تحفظ و بقاء کیلئے انکی مثبت سوچ ہے۔ اسی طرح سرکاری اشتہاروں کو حکومتی مقاصد کے حصول کیلئے سابقہ حکمرانوں کی طرح بطور ہتھیار استعمال نہ کرنے کی انکی سوچ بھی صحت مند فضا میں میڈیا کی آزادی کے تحفظ کیلئے ممدومعاون ہو گی۔
ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے میڈیا نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہے بلکہ ان قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے ہر قسم کی کٹھنائیوں کا سامنا کرنے کی جرأت و ہمت بھی رکھتا ہے جبکہ ماضی میں میڈیا کو اپنا دشمن سمجھنے کی سوچ سے ہی خرابیاں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ اگر حکمران طبقات ایک اہم ریاستی ستون کی حیثیت سے میڈیا کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے قومی مفادات و مقاصد کیلئے اسکی معاونت حاصل کرنے کا کلچر پروان چڑھائیں تو یہی میڈیا تعمیرو استحکام وطن کیلئے حکومت کی ڈھال بنا نظر آئے۔ یہ امر واقع ہے کہ قومی میڈیا نے آئین پاکستان کے تحفظ اور اسکے ماتحت ملکی اور قومی مفادات کی وکالت و ترجمانی ہی کو ہمیشہ حرزِجاں بنایا ہے اور اس راہ میں ہاتھ قلم ہونے کی بھی کبھی پرواہ نہیں کی۔ حکمران بھی بہترین ملکی اور قومی مفادات کی ملکی اور عالمی سطح پر وکالت کیلئے میڈیا کو اپنا دوست بنائیں اور سمجھیں گے تو اس سے ملک کی بنیادیں مزید مضبوط بنانے میں ہی مدد ملے گی۔ اس حوالے سے قومی میڈیا کو وزیراعظم عمران خان سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں اور وہ ان توقعات پر پورا اترنے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ انہیں روایتی رطب اللسانوں کا دامن بہرصورت جھٹکنا اور پروفیشنلزم کا دامن تھامے ہوئے میڈیا گروپس کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی تاکہ قومی تعمیری صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس