0
1
0
اے بی ۔۔۔ رؤف

عاطف میاں سرمایہ دارانہ نظام کے ایک قابل معاشی ماہر ہیں،انکی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ نوبل پرائز کے لیے نامزد رہ چکے ہیں۔عاطف میاں کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے عمران خان صاحب نے انکو اقتصادی مشاورتی کونسل کا رکن نامزد کیا۔سابق سول اور فوجی حکومتوں نے ملک بیرونی امدا د سے چلایا ،اب پاکستان کے ذمہ واجبات نوے ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
شرح نمو انتہائی کم سطح پر ہے۔ہم آئی ایم ایف سے قرض لیتے ہیں اور اس قرض کی ادائیگی کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کی خوفناک شرائط بھی ماننا پڑتی ہیں۔قرض کی قسط ادا کرنے کے لیے بھی ہمیں قرض کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ملکی ادارے ملک پر بوجھ بن چکے ۔پھرشماریات اور اقتصادیات ایسے شعبے ہیں جن کے گورکھے دھندے پڑھے لکھے آدمی کو بھی سمجھ نہیں آتے۔ایسے میں قابل اقتصادی ماہر پاکستان کی معاشی حالت کو سنوار سکتا ہے،پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہو گی تو پاکستان کے عام آدمی کی زندگی میں بھی بہتری آئی گی۔
اکثر لوگوں کا خیا ل ہے کہ مذہبی رجانات کو بالا طاق رکھ دیں تو بہت سارے معالات بہتر ہوسکتے ہیں۔اس سلسلے میں قائداعظم کے ابتدائی حکومتی عہدوں پر سر ظفر اللہ خان بطور وزیر خارجہ اور جوگندر ناتھ منڈل کی بطور وزیر قانون کی تعیناتی کا حوالہ دیتے نظر آتے ہیں۔ جوگندرناتھ نے قراردار مقاصد کی منظوری خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اور 1950ء میں بھارت چلے گئے اور پھر واپس نہ آئے۔ہندوستان راہنماوں نے ہوشیاری کا ثبوت دیتے ہوئے ماؤنٹ بیٹن کوہندوستان کا پہلا گورنر جنرل مقرر کرد یا جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے دوراندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے ماونٹ بیٹن کو پاکستان پہلا گورنر جنرل بنانے پر آمادگی کا ظاہر نہیں کی اور خود پاکستان کے پہلے گورنر کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ٖ
غیر مسلم حکومتی عہدوں پر کام کر سکتے ہیں ایسا پہلے ہوتا بھی رہا مگر یہاں ایک خاص نقطہ نظر کی بات ہو رہی ہے۔اب تاریخ کچھ تلخ حقائق کا جائرہ لیتے ہیں۔یہ مغل دربار تھا برطانوی سفیر سر ٹامس رو مغل بادشارہ جہانگیر سے ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کروانا چاہتا تھا جس کے تحت برطانیہ کی ایک کمپنی کو ہندوستان سے تجارت کا پروانہ مل جاتا مگر جہانگیر برطانیہ جیسے معمولی جزیرے سے ایسا معاہدہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔
برطانوی سفیر ٹامس رو بھی اپنی دھن کا پکا تھا اس نے مغل دربار میں تحائف اور تعلقات کو بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا،البتہ تجارتی پروانہ شہنشہاہ جہانگیر سے تو نہ مل سکا مگر ولی عہدشاہ جہاں سے سورت میں ایک فیکٹری کھولنے کا اجازت نامہ حاصل کر لیا یہ اجازت نامہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔اب آگے سنیے اس وقت برطانیہ اور دیگر یورپی ملکوں کو تجارتی اور نئی کالونیوں کی لڑائی شروع ہو چکی تھی،وہ مقامی سپاہی بھرتی کرنے لگے،ہندوستانی راجے مہاراجے آپسی لڑائی میں ان سے مدد مانگنے لگے اس طرح سو سال گزر گئے ہندوستانیوں راجوں کو خبر ہی نہ ہوئی کہ یہ فیکٹریاں فوجی چھاونیوں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔

اب انگریزوں کی خواہشات پھیل چکی تھی 1757ء کی جنگ پلاسی میں بنگال میں میر جعفر کی مدد سے نواب سراج الدولہ کو شکست دے دی گئی،1799ء میں اودھ کے حکمران ٹیپوسلطان کو میر صادق کی مدد سے شکست دے دی گئی،1857 ءسے پہلے برطانوی سامراج پورے ہندوستان پر قابض سے چکا تھا، وظیفہ خود بادشاہ اور راجے عملی طور عضو معطل بن چکے، انگریزوں کے ایک معمولی میجر ہڈسن نے ہمایوں کے مقبرے میں بہادر شاہ ظفر کی توہین کی اور رنگون میں قید تنہائی کی حالت میں مغل سلطنت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی عملداری کا آغاز ایک معمولی تجارتی کمپنی سے کیا اور پھر اپنے دور حکمرانی میں ماہرین اقتصادیات کے مطابق ہندوستا ن سے 30کھرب ڈالر کی دولت برطانیہ لے کر گئے،برطانوی مشنریوں نے ہندوستان کی بڑی آبادی کو عیسائیت میں تبدیل کر دیا، لارڈ میکالے نے ایسا نظام تعلم متعارف کروایا جس سے ہندوستان اور پاکستان آج تک برطانیہ کی ذہنی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکے،پورے برصغیر میں رہائشی تعمیرات کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کر دیا۔فارسی کو تبدیل کرنے سے برصغیر کا عملی سرمایہ یکدم ختم ہو گیا،لارڈ میو کے قتل کے بعدبیورکریسی کا سخت گیر نظام دیا جس نے آگے چل کر سرخ فیتے کو عام عوام کو حکومت کے درمیاں حائل کر دیا،آج بھی بیورکریسی صدیوں پرانے طریقہ کار وضع کردہ نظام کے تحت ہی تربیت حاصل کرتی ہے۔یہ ہیں وہ چند باتیں اور گذارشات۔آگے چلیں سعودی عرب کے شہری لمبے عرصے سے اپنے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔
سعودی عرب اپنے ملکی معاملات میں مداخلت پسند نہیں کرتا جس کا ثبوت حالیہ دنوں میں کینڈا اور سعودی عرب کے کشیدہ تعلقات ہیں ۔سعودی عرب میں قوانین تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں،خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت سینماگھروں کا قیام شامل ہیں اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذکرات بھی ہورہے ہیں۔مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر سعودی عرب پر پراسرار خاموشی طاری ہے۔پاکستان کی طرف آتے ہیں ابھی چند دن پہلے کی بات ہے حلف نامے میں چند الفاظ کی تبدیلی کی گئی ،حلف نامے میں چند الفاظ کو تبدیل کرنے سے اسکو ختم نبوت ﷺ کی بندش سے آزاد کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ،حافظ حمد اللہ اور   شیخ رشید کی نشان دہی پر ایک طوفان برپا ہوا،تحریک انصاف نے حلف نامے میں تبدیلی کا الزام ن لیگ پر لگایا،بہرحال پرانے الفاظ یہ کہہ کر بحال کر دئیے گئے کہ یہ ایک انسانی غلطی تھی،مگر بعد میں یہ بھی پتا چلا کہ تحریک انصاف کے شفقت محمود بھی حلف نامے والی کمیٹی کا حصہ تھے،راجہ ظفر الحق کی رپورٹ میں جن لوگوں کی نشان دہی کی گئی ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ن لیگ کے دور حکومت میں فوج اور سول حکومت ایک دوسرے گھل مل نہیں سکے اور چائے کی پیالی میں بار بار طوفان برپا ہوتا رہا۔
اب پاکستان میں ایک نئی نویلی حکومت آچکی اور اس حکومت نے عوامی فلاح و بہبودکے وعدے بھی کر رکھے ہیں او ر یہ سارے وعدے اور عزائم کا فی مثبت ہیں۔عمران خان صاحب نے عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کونسل کا رکن منتخب کیا اس فیصلے کو پاکستانی عوام کی اکثریت نے پسند نہیں کیا ،عمران خان صاحب نے امریکا کے دورے دوران ان سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے اور انکو اہم اقتصادی ذمہ داری دینے کا اظہار وہ پہلے بھی کر چکے ہیں۔اب تحریک انصاف نے اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ہوکیا رہا ابھی اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے مگر چھ ستمبر کو دائیں بازو کے ایک بڑے اور تاریخی اخبارنے ایک اشتہار شائع ہوااور اس دن ادارہ نے اللہ تعالیٰ سے اس اشتہار کو شائع کرنے پر معافی بھی مانگتا ہے۔اللہ جانے کیا ہورہا ہے مگر کچھ ہو ضرور رہا ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس