0
0
0
شفق: فضل حسین اعوان

جناب ضیاء شاہد کی کتابوں کی بہار اور برسات میں ایک کا نام میرے بہترین کالم ہیں۔ ضیاء شاہد کے قلم سے تحریر کے قلزم پھوٹتے ہیں، ان کی ایک کے بعد ایک کتاب آ رہی اور ہٹ ہو رہی ہے انہوں نے یقیناً ہر تحریر پر محنت کی ہے مگر اپنے بہترین کالموں کی تلاش میں محنت شاقہ کی ضرورت ہوتی ہے یہ مرحلہ شاید کالم نگاری سے زیادہ دشوار ہے۔

میرے ہاتھ میں جناب سعید آسی کی کتاب ’’تیری بکل دے وچ چور ہے‘‘ یہ ان کے بے شمار کالموں میں سے منتخب کالموں کا مجموعہ ہے۔ ہر کالم نگار کتاب کیلئے اپنے بہترین کالموں کا انتخاب کرتا ہے۔ باقی کالم جو بہترین نہیں ہوتے کتاب کا حصہ نہیں بن پاتے، ان کو کیا نام دینا چاہئے؟ہر کالم میں کالم نگار کے جذبات بلکہ خونِ جگر شامل ہوتا ہے۔ سعید آسی ادبی و صحافتی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ کالموں کی اگر زبان ہوتی کتاب میں شامل نہ ہونے والا ہر کالم ضرور پوچھتا ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔ شاید ان حلقوں سے متعلقہ لوگ بھی ان کی شخصیت کے بارے میں مکمل معلومات نہ رکھتے ہوں۔ تیری بکل دے وچ چور قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل (والٹن روڈ) لاہور نے شائع کی ہے۔ جس کا انتساب ’’امام صحافت جناب مجید نظامی کے نام کیا گیا جو جرأت اظہار کا پیکر تھے۔ کتاب کے مہتمم علامہ عبدالستار عاصم اور محمد فاروق چوہان ہیں۔ علامہ عبدالستار عاصم نے سعید آسی کی شخصیت و خدمات کے بارے میں لکھا ہے۔

سعید آسی کا میدانِ ادب وصحافت کے شہسواروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے 70ء کی دہائی میں اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا اور آج 2018ء میں بھی ان کا قلم علم وادب کی روشنی بکھیر رہا ہے۔ وہ ملک کی ترقی و استحکام اور عوام کی خوشحالی کی مثبت سوچ کے ساتھ تحریری اور نشری تبصرے کرتے ہیں اور گزشتہ گیارہ برس سے نوائے وقت کے لیڈر رائٹر کی حیثیت سے حکمران اشرافیہ طبقات کو راہ عمل دکھا اور سمجھا رہے ہیں اور مجبور ومحکوم عوام کو سلطانی جمہور کے ثمرات سے فیض یاب ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ 1981ء سے نوائے وقت کے ساتھ وابستہ ہیں اور سب ایڈیٹر سے ڈپٹی ایڈیٹر تک اور رپورٹر سے چیف رپورٹر تک صحافت کے ہر شعبے میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ بے لاگ کالم نگار اور تجزیہ کار کی حیثیت سے بھی وہ اپنی الگ شناخت قائم کر چکے ہیں۔ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے قلم کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کیا اور اسی کو حصول رزق کا ذریعہ بنایا۔ وہ بلاشبہ قلم قبیلہ کی ان شخصیات میں شامل ہیں جن کی بدولت ادب وصحافت کا بھرم قائم ہے۔ وہ صحافیوں کی مختلف تنظیموں میں نمایاں عہدوں پر منتخب ہوتے رہے جبکہ متحرک سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی انہوں نے خود کو تسلیم کرایا۔ انہوں نے روزنامہ ’’وفاق‘‘ لاہور سے 1975ء میں اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا اور پھر روزنامہ ’’آزاد‘‘ ’’صداقت‘‘ ’’صحافت‘‘ اور ’’جنگ‘‘ سے ہوتے ہوئے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے زینے تک پہنچے۔ ادبی میدان میں وہ گنج شکر اکیڈمی کے صدر اور اکادمی ادبیات پاکستان، رائٹرز گلڈ اور الحمراء ادبی بیٹھک کے رکن کی حیثیت سے قلم قبیلے کے مسائل کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ سماجی شعبے میں بھی انکی خدمات تسلیم شدہ ہیں۔ حکومت پنجاب نے انہیں 2002ء میں ہیومن رائٹس کمیشن پنجاب کارکن مقرر کیا جبکہ انہیں لاہور ہائیکورٹ کی جیل وہاسپٹلز ریفارمز کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی ادارہ جاتی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کا موقع ملا۔ وہ گزشتہ 20 سال سے سبزہ زار ویلفیئر سوسائٹی اور ویلفیئر فیڈریشن کے صدر ہیں اور پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) نے انکی سماجی خدمات کے اعتراف کے طور پر سبزہ زار سکیم ڈی بلاک کے پارک کو ’’سعید آسی پارک‘‘ کا نام دیا ہے۔ حال ہی میں ایشیئن کلچرل ایسوسی ایشن نے انہیں انکی بے بہا صحافتی خدمات کے اعتراف کے طور پر لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ سے نوازا ہے۔ انکی اب تک چھ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں انکی پنجابی شاعری کے دو مجموعے ’’سوچ سمندر‘‘ اور ’’رمزاں‘‘ اردو شاعری کا ایک مجموعہ ’’تیرے دکھ بھی میرے دکھ ہیں‘‘ دو سفر نامے ’’آگے موڑ جدائی کا تھا‘‘ اور ’’جزیرہ جزیرہ‘‘ اور نوائے وقت میں شائع ہونیوالے ان کے کالموں کا انتخاب ’’کب راج کرے گی خلق خدا‘‘ شامل ہے۔ انکی ساتویں کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، نوائے وقت میں 2015ء سے 2017ء تک شائع ہونیوالے انکے کالموں کا انتخاب ہے‘‘۔

کتاب کے مصنف اپنے بارے میں لکھتے ہیں ’’میرا یہ المیہ ہے کہ میں زہر ہلاہل کو کبھی قند نہیں کہہ پایا‘‘۔ یہی سچ ہے اور میرے جیسے کولیگ اس کے گواہ بھی ہیں۔ ان کے ہم عصر بلکہ بعد میں آنے والے بھی کئی صاحبان اقتدار کی کشتی کا پتوار تھام کر کھرب پتی اور فارم ہائوسز کے مالک بن گئے۔ مگر انہوں نے سچائی، غیر جانبداری اور ایمانداری کا دامن کبھی ہاتھ سے سرکنے نہیں دیا۔

یہ کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ کتاب کے ابواب پر نظر ڈالی جائے تو وہ خود بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آج بھی امپائر کی انگلی میں پاکستان کی سیاسی تحریکوں کی تفصیل موجود ہے، نواب زادہ نصراللہ کا تذکرہ ہو تو ساٹھ کی دہائی سے 2005ء کی سیاست نشیب و فراز سے آگاہی ہوتی ہے۔ کتاب میں سیاست کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشرتی رویوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ آخری باب ’’مجید نظامی کی تیسری برسی اور کیفیت قلبی‘‘ کے نام سے ہے جو ان کے جناب مجید نظامی کے ساتھ قلبی لگائو کا عکاس ہے۔ سعید آسی کے سات آٹھ کالم ان کے سفر حجاز پر تھے بلاشبہ اس کا لمی سفر نامے کو کلاسیکل کہا جا سکتا ہے مگر کتاب میں وہ کالم نظر نہیں آئے۔ شائد اگلے ایڈیشن کا حصہ بنیں۔ ان کالموں میں حج اور عمرہ زائرین کیلئے رہنمائی۔ مقدس سرزمین کی تاریخ عربوں کے کلچر اور جدید طرز زندگی کی طرف گامزن معاشرتی رویوں کا تذکرہ ہے۔ انہی کالموں میں جدہ میں میاں نوازشریف کی ایک جائیداد کا بھی انکشاف موجود ہے جو ابھی تک اوجھل ہے۔ کتاب کا نام تیری بکل دے وچ چور بھی ایک کالم کے عنوان سے لیا گیا ہے۔ یہ کالم پیمرا کے حوالے سے ہے۔ آج معروضی حالات کا جائزہ لیں جس کا تذکرہ اس کتاب میں موجود ہے تو لگتا ہے کہ بکل والا بھی چور ہے ’’بکل دے وچ چور‘‘ یہ بلہے شاہ کی ایک نظم کا مصرعہ ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس