0
0
0
انداز جہاں: اسد ﷲ غالب

سید افضل حیدر کا وجود غنیمت ہے ۔ قیام پاکستان کے اولین لمحات کی ایک ایک یاد انھیں ازبر ہے اس لئے کہ ان کے عظیم والد سید محمد شاہ نے ریڈ کلف ایوراڈ میں مسلم لیگ کے وکیل ظفراللہ خان کی معاونت کے فرائض انجام دیئے اور والد کے حوالے سے تاریخی مواد ان کے گھر میں موجود تھا جسے وہ حکومت پنجاب کے حوالے کر چکے ہیں اور یہ تاریخی مواد چار جلدوں میں شائع بھی ہو چکاہے مگر اب خود سید افضل حیدر نے ریڈکلف ایوارڈ کی لمحہ بہ لمحہ کہانی مرتب کی ہے جو ایک معروف اشاعتی ادارہ چھاپ کر مارکیٹ میں لائے گا۔ یہ کتاب رازوں کا خزینہ ہے اور وہ تمام حقائق منظر عام پر آ جائیں گے جو آج کی نسل کی نظروں سے اوجھل تھے۔ایک خصوصی انٹرویو میں سید افضل حیدر نے بتایا کہ تین جون کو لار ڈمائونٹ بیٹن نے تقسیم ہند کا پلان دیا۔ ا سکے مطابق 15اگست کو پاکستان اور بھارت کی دو آزاد ریاستیں وجود میں آنا تھیں۔وائسراے نے بتا یا کہ دونوں ملکوں کی سرحدوں کا تعین ایک کمیشن کرے گا جس کی سر براہی ریڈ کلف کے ہاتھو ں میںہو گی۔ ریڈ کلف اٹھارہ جولائی کو انڈیا آیا۔ اس نے چار جج صاحبان کو اپنے ساتھ ایوارڈ کا فیصلہ کر نے کے لئے شامل کیا۔ ان میں جسٹس دین محم،  جسٹس منیر،  جسٹس مہاجن اور جسٹس تیجا سنگھ شامل تھے،۔کانگرس کی طرف سے سیتل واد کو وکیل مقرر کیا گیا اور کمشنر لاہور خواجہ عبدالرحیم اور وزارت قانون کے ایک افسر گلاب سنگھ کو کمیشن کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ اس کمیشن کے تین اجلاس پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ میں ہوئے ، پہلی دو میٹنگز میں ریڈ کلف شامل نہیں ہوا۔ وہ تیسری میٹنگ میں آیا اورا س میں4 فیصلے کئے گئے کہ مسلم لیگ اور کانگرس کے وکلاء  کی ٹیم اپنا کیس تحریری شکل میں 18جولائی کو پیش کرے گی اورا سکی پچاس پچاس کاپیاں بنوائی جائیں گی۔، دوسرا فیصلہ یہ ہوا کہ پنجاب اسمبلی کے بجائے کمیشن کے آئندہ اجلاس لاہور ہائی کورٹ میں ہوں گے، اور یہ سماعت 21 جولائی کو شروع ہوکر 31 جولائی تک ہو گی۔ ایک فیصلہ یہ ہو ا کہ پنجاب حکومت اس کمیشن کی سکیورٹی کا بندو بست کرے گی اور چوتھا فیصلہ یہ تھا کہ ساڑھے چار دن کانگرس کے وکیل کو ملیں گے ا ور اتنے ہی دن مسلم لیگ کے وکیل کوملیں گے اور ایک دن باقی چھوٹی جماعتوں کے لئے مخصوص ہو گا، اس موقع پر سیتل واد نے کہا کہ وہ کیس اوپن کریں گے جس پر جج صاحبان نے کہا کہ یہ فیصلہ اتفاق رائے سے ہونا چاہئے مگر ظفراللہ خان نے کہا کہ جب سیتل واد استدعا کر چکے ہیں تو  انھیں کوئی اعتراض نہیں ، تاکہ ساری کاروئی خوش اسلوبی سے مکمل کی جا سکے۔ اس کمیشن کے اجلاس طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوئے مگر کسی اجلاس میں ریڈ کلف نے شرکت نہیں کی بلکہ روزانہ کی کاروائی ٹائپ کر کے ا سکی کاپیاں ججوں اور وکلا کو دی جاتیں اور ایک کاپی ماؤنٹ بیٹن کے خصوصی طیارے میں دلی روانہ کر دی جاتی۔ 31جولائی کو کیس کی سماعت مکمل ہو گئی مگر ریڈ کلف نے عدالتی اصول کے مطابق کمرہ عدالت میں فریقین کے وکلاء کی موجودگی میں کسی ایوراڈ کا اعلان نہیں کیا بلکہ تمام ججوں کو شملہ بلا لیا۔ مسلم لیگ نے سید محمد شاہ ایڈوو کیٹ اور شیخ نثار ایڈووکیٹ ( والد محترم چیف جسٹس اعجاز نثار) سے کہا کہ وہ بھی شملہ چلے جائیں تاکہ مزید کاروائی کی خبر دے سکیں، پانچ اگست کو شملہ کی میٹنگ میں جسٹس دین محمد نے ریڈ کلف سے کہا کہ وہ فیروز پور اور نواحی علاقوں کے بارے میں اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں اس پر ریڈ کلف بولا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں، میرا فیصلہ ہے کہ فیروز پور پاکستان کو ملے گا۔ یہ اطلاع جسٹس مہاجن نے نہرو کو پہنچائی جس نے بیکانیر کے راجہ کو الرٹ کیا کہ وہ ماؤنٹ بیٹن سے مل کر اس فیصلے پر اعتراض کریں، راجہ نے ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات کی اور کہا کہ اگر فیروز پورا ور زیرہ کا علاقہ پاکستان میں چلا گیا تو اسے بھی لا محالہ پانی کی ضروریا ت کے لئے پاکستان میں شامل ہونا پڑے گا۔ یہ فیصلہ نہرو کو بھی قبول نہیں ہو گا کیونکہ اس نے کہاہے کہ وہ فیروز پور ہیڈ ورکس کو بند کر کے پاکستان کو پیاسا مارنا چاہتا ہے، سید افضل حیدر کہتے ہیں کہ یہ پہلا واٹر بم تھا جونہرو نے چلایا اور اس کے بعد ہر بھارتی حکومت نے پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں اور آبی دہشت گر دی کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

ریڈ کلف نے 5اگست کے شملہ اجلاس میں کہا کہ وہ اپنا ایوارڈ وائسرے کو 8 اگست کودے کر انڈیا سے جائے گا اور وائسرے 9اگست کو اسکا اعلان کر دیں گے مگر دن گزرتے رہے۔ ریڈکلف 10 اگست سے پہلے واپس لندن چلا گیا۔ 15 اگست کو پاکستان اور بھارت کا قیا م عمل میں آ گیا مگر دونوں ملکوں کی سرحدوں کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔ 17 اگست کی شام کو وائسرائے نے ایوارڈ کا اعلان کیاجس کی رو سے فیروز پور اور گوردا سپور بھارت کو دے دئیے گئے، گورداسپور پاکستان کے ہاتھ سے نکلا تو ساتھ ہی پاکستان کو کشمیر سے بھی ہاتھ دھونے پڑے،۔ ریڈ کلف کے تما م وعدوں کے برعکس سرحدوں میں تبدیلی لازمی طور پر وائسرائے نے خود کی اور نہرو کو خوش کرنے کے لئے کی۔ آل انڈیا ریڈیو نے یہ خبر 18اگست کی صبح نشر کی جسے سن کر ظفراللہ خان نے پٹھان کوٹ سے سیدمحمد شاہ کو فون کیا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہو  گیا ہے ۔

سید افضل حیدر نے اسی عظیم دھوکے کی تفصیلات کو زیر طبع کتاب میں شامل کیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کا ہمیں بے چینی سے انتظار ہے۔

فیروز پور اور گورداس پور نہ ملنے کی وجہ سے مسلم لیگ کو صدمہ ہوا اور لاہور، شیخوپورہ ،ساہیوال اور لائل پور نہ ملنے پر سکھ طیش میں آ گئیْ ۔

پاکستان کو لاہور کیوں ملا ۔ یہ سوال ایک انٹرو یو میں کلدیپ نائر نے ریڈ کلف سے پوچھا تو جواب ملا کہ اس نے کلکتہ بھارت کو دیا جسے قائد اعظم مانگ رہے تھے تو انھیں خوش کرنے کے لئے لاہور پاکستان کو دینا پڑا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس